بھارت جموں کو کشمیر سے الگ کرنے کی سازش کر رہا ہے، عمرعبداللہ

جموں(نامہ نگار)غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں کٹھ پتلی وزیر اعلی عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ بی جے پی کی زیرقیادت بھارتی حکومت نے 2019میںلداخ کو جموں و کشمیر سے الگ کر کے تباہ کردیا اور اب جموں کو کشمیر سے الگ کرکے اسے بھی تباہ کرنا چاہتی ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق عمر عبداللہ نے جموں میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی نے لداخ کا غلط استعمال کرنے اوراسے تباہ کرنے کے لیے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں تبدیل کیا تھا اور اب جموں میں علیحدہ ریاست کے مطالبات کی آڑ میں اسی طرح کا تفرقہ انگیز کھیل کھیلا جارہا ہے۔ وہ بی جے پی کے رہنما اور جموں کے رکن اسمبلی شام لال شرما کی طرف سے جموں کے لیے علیحدہ ریاست کا مطالبہ کرنے کے بیان پر ردعمل دے رہے تھے ،جسے بعد میں بی جے پی نے ان کاانفرادی موقف قرار دیا۔عمر عبداللہ نے پوچھا کہ بی جے پی کو اچانک جموں کی ریاست کیوں یاد آرہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب اگست 2019میں جموں و کشمیر کی غیر قانونی طور پر تشکیل نو کی گئی، اس وقت نئی دہلی میں بی جے پی کی حکومت تھی، پھر بھی اس نے اس وقت اس معاملے کو نہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ فکر اچانک کیوں؟ ان کی سیاست کہیں ناکام ہو گئی ہے اور وہ اس پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے جموں کو کشمیر سے الگ کرنے کی تجاویز کے پیچھے محرکات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس سے مذہبی اور سیاسی انجینئرنگ کے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کس بنیاد پر کرنا چاہتے ہیں؟ کیا یہ مذہبی بنیادوں پر ہے؟ ایک طرف وہ ہم پر الزام لگاتے ہیں اور دوسری طرف وہ خود جموں و کشمیر کو تباہ کر رہے ہیں۔دریں اثناء سرینگر میں کابینہ کے وزیر جاوید احمد رانا نے کہا کہ لداخ بالآخر جموں و کشمیر کے ساتھ دوبارہ مل جائے گا اوربھارت کے پاس مستقبل میں کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوگا۔انہوں نے جموں و کشمیر کو تقسیم کرنے پر افسوس کااظہارکرتے ہوئے کہا کہ یہ کبھی ایک مکمل ریاست تھی ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ بھارت نے 5اگست 2019کو دفعہ 370کو ختم کرکے ریاست جموں و کشمیر کو مرکزکے زیر انتظام دو علاقوں جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کردیا تھا۔ دفعہ370 کے تحت بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقے کو خصوصی حیثیت حاصل تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button