کل جماعتی حریت کانفرنس کے وفد کی اہم ملاقات
مظفرآباد(نامہ نگار) ہندوستانی اقدامات اقوام متحدہ کے چارٹر اور انسانی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیں ،سمعیہ ساجد کی رہائش گاہ پر کل جماعتی حریت کانفرنس کے وفد کی مشتاق احمد بٹ کی قیادت میں اہم ملاقات، ملاقات میںمقبوضہ جموں و کشمیر کی موجودہ گھمبیر، تشویشناک اور غیر انسانی صورتحال پر جامع تبادلہ خیال کیا گیا،مرکزی چیئرپرسن آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس خواتین ونگ و چیئرپرسن کشمیر ویمن الرٹ فورم (کواف) محترمہ سمعیہ ساجد سے اُن کی رہائش گاہ پر کل جماعتی حریت کانفرنس کے وفد نے سیکریٹری اطلاعات کل جماعتی حریت کانفرنس مشتاق احمد بٹ کی قیادت میں ملاقات کی، جس میں سینئر حریت رہنما سید گلشن، سید مشتاق حسین اور نوجوان حریت رہنما نصیر میر شریک تھے۔ملاقات میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی موجودہ گھمبیر، تشویشناک اور غیر انسانی صورتحال پر جامع تبادلہ خیال کیا گیا اور بھارتی قابض افواج کی جانب سے جاری ریاستی جبر، انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں اور کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کی مسلسل سلبی پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ حریت وفد نے واضح کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں قتل و غارت، بلاجواز گرفتاریاں، جبری گمشدگیاں، گھروں اور املاک کی مسماری، شہری آزادیوں کی پامالی، اظہارِ رائے پر قدغنیں، میڈیا کی آزادی سلب کرنا، سیاسی و سماجی سرگرمیوں پر پابندیاں، مذہبی و ثقافتی شناخت کو نشانہ بنانا اور غیر ریاستی باشندوں کو منظم و منصوبہ بند انداز میں آباد کرنے جیسے اقدامات نہ صرف اقوام متحدہ کے چارٹر، جنیوا کنونشنز اور بین الاقوامی انسانی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیں بلکہ یہ اقدامات ایک منظم پالیسی کے تحت ریاست جموں و کشمیر کی آبادیاتی ساخت کو تبدیل کرنے، اس کے مسلم تشخص کو کمزور کرنے اور کشمیری عوام کو اُن کے تاریخی، سیاسی اور جغرافیائی حق سے محروم کرنے کی دانستہ کوشش ہیں، جسے حریت قائدین نے سنگین جنگی جرم اور انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا، وفد نے اس امر پر زور دیا کہ بھارتی حکومت کی طرف سے ڈومیسائل قوانین میں یکطرفہ و غیر قانونی تبدیلیاں، زمینوں کی ضبطی، سرکاری و نیم سرکاری ملازمتوں میں غیر ریاستی افراد کی تقرری، اور آبادی کے تناسب میں جبری رد و بدل عالمی ضمیر کے لیے کھلا چیلنج ہے اور اگر عالمی برادری نے خاموشی اختیار کیے رکھی تو یہ خطہ ایک بڑے انسانی المیے کی طرف دھکیلا جا سکتا ہے۔ ملاقات کے دوران حریت وفد نے اقوام متحدہ، سلامتی کونسل، عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں، یورپی یونین، او آئی سی اور آزاد عالمی میڈیا سے پُرزور اپیل کی کہ وہ اپنی اخلاقی اور قانونی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے بھارت کی ظالمانہ کارروائیوں کو فوری طور پر رکوائیں، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی آزادانہ، غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کو یقینی بنائیں، سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لیے عملی اقدامات کریں اور کشمیری عوام کو اُن کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق تسلیم شدہ ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت دلانے کے لیے مؤثر اور نتیجہ خیز کردار ادا کریں۔ حریت قائدین نے محترمہ سمعیہ ساجد کی اُن مسلسل، منظم اور جرات مندانہ کاوشوں کو سراہا جن کے ذریعے وہ تحریکِ آزادی کشمیر، مقبوضہ کشمیر میں جاری ریاستی جبر و استبداد اور انسانی حقوق کی پامالیوں کو قومی و عالمی سطح پر مؤثر انداز میں اجاگر کر رہی ہیں اور وفد نے اس امید کا اظہار کیا کہ وہ آئندہ بھی اسی عزم، لگن اور استقامت کے ساتھ کشمیری عوام کی جائز اور پرامن جدوجہد کی آواز عالمی فورمز تک پہنچاتی رہیں گی؛ اس موقع پر محترمہ سمعیہ ساجد نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے زیرِ اہتمام یومِ حقِ خودارادیت کے موقع پر منعقدہ کامیاب اور پُرامن ریلی پر حریت قیادت کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی عوامی یکجہتی کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت کے حصول کی جدوجہد کو مزید تقویت دیتی ہے اور عالمی ضمیر کو بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ہر قومی و بین الاقوامی فورم پر کشمیر کاز کی بھرپور، دوٹوک اور غیر متزلزل حمایت جاری رکھیں گی اور کشمیری عوام کے سیاسی، اخلاقی اور انسانی حقوق کے دفاع کے لیے اپنی آواز بلند کرتی رہیں گی۔ ملاقات کے اختتام پر فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ کشمیری عوام کی جائز، پرامن اور اصولی جدوجہد کو عالمی ضمیر تک مؤثر انداز میں پہنچانے، سفارتی، سیاسی اور سماجی سطح پر مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرنے، اور باہمی روابط و تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ کاوشوں کو تسلسل کے ساتھ آگے بڑھایا جائے گاـ