علاقائی خبریں

سپریم کورٹ کے حکم کی کھلی خلاف ورزی ، 2 سال بعد بھی فیصلہ دفن

 

بہاول پور( نامہ نگار ) صاحبزادہ یوسف اکرم عباسی۔اعجاز اویسی۔اجمل عباسی ۔رفیع عباسی۔وجملہ وارثان حضرت خواجہ امام بخش سیرانی کاپریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے دو سال پرانے تاریخی فیصلے کے باوجود حضرت خواجہ محکم الدین سیرانی سرکار کے حقیقی ، قانونی اور شرعی ورثا کے نام آج تک رقبہ منتقل نہ کیا جا سکا جبکہ با اثر اویسی خاندان کے نام غیر قانونی طور پر انتقالات برقرار رکھے گئے ہیں ۔ سپریم کورٹ نے 385/2023 CRP اور 284/2023 CRP میں جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کے ذریعے نجیب اویسی ، شعیب اویسی ، عثمان اویسی ، اعجاز اویسی ، خالد اویسی سمیت تمام ادیسی خاندان کے دعوے مکمل طور پر خارج کرتے ہوئے فیصلہ حقیقی وارثان کے حق میں برقرار رکھا تھا۔ مگر حیران کن طور پر دو سال گزر جانے کے باوجود نہ صرف فیصلہ فائلوں میں دبایا گیا بلکہ حقیقی وارثان کے نام انتقالات درج کرنے سے مسلسل انکار کیا جارہا ہے۔ سید اعجاز بخاری نے کہا کہ اویسی خاندان اپنی تمام رٹ پٹیشنز میں کوئی ایک دعوی بھی ثابت نہ کر سکا اور ان کے پاس کسی عدالت کا کوئی حکم امتناعی موجود نہیں۔ اس کے باوجودریونیوعملہ با اثر سیاسی شخصیات کی پشت پناہی میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو ردند رہے ہیں۔انہوں نے کہا بہاولپور میں ریونیو افسران نے سیاسی دباو کے سامنے گھٹنے ٹیکتے ہوئے تحفظ حقوق ملکیت ایکٹ 2025 کو بھی پس پشت ڈال رکھا ہے۔ صاحبزادہ یوسف اکرم عباسی۔سیداعجاز بخاری۔اجمل عباسی۔رفیع وباسی وجملہ وارثان حضرت خواجہ امام بخش سیرانی نے وزیر اعلی پنجاب مریم نواز سے مطالبہ کیا ہے کہ تحفظ ملکیت ایکٹ 2025 کے تحت فوری طور پر سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق حضرت خواجہ امام بخش سیرانی سرکار کے ورثا کے نام تمام رقبہ منتقل کرنے کا حکم جاری کیا جائے۔ ریونیو افسران اور با اثر افراد کے گٹھ جوڑ کی فوری تحقیقات کروائی جائیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد میں رکاوٹ بنے والے افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔انہوں نے کہاکہ کیا پنجاب میں قانون صرف غریب اور کمزور کے لیے ہے؟ اور طاقتور سیاسی خاندانوں کے لیے کچھ اور ؟ ۔رفیع عباسی نے کہا کہ سپریم کورٹ کا واضح فیصلہ موجود ہونے کے باوجود عمل نہ ہونا ریاستی حکمرانی ، انصاف کی بالا دستی اور وزیر اعلی کے تحفظ ملکیت ایکٹ کی ساکھ پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔انہوں نے کہا کے اگر سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو وہ وزیراعلی پنجاب سیکرٹریٹ کے سامنے پر امن احتجاج کرینگے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button