ڈھانچہ جاتی کمزوریوں کو دور کرنے توانائیاں لگائی جائیں،محمود غزنوی
لاہور( نامہ نگار) معیشت کے حوالے سے ہر ماہ تمام اسٹیک ہولڈرز کی قومی سطح کی نشست ہونی چاہیے ‘ پیاف،مجموعی اعداد و شمار بیشک بہتر ہورہے ہوں لیکن اصل کام اور چیلنجز اب بھی وہی ہیں ‘ پیٹرن انچیف میاںسہیل نثار،ڈھانچہ جاتی کمزوریوں کو دور کرنے توانائیاں لگائی جائیں،چیئرمین محمود غزنوی ،سینئر وائس چیئرمین مدثر مسعود چودھری ،اکستان انڈسٹری اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشن فرنٹ (پیاف ) کے پیٹرن انچیف میاں سہیل نثار ،چیئرمین سید محمود غزنوی ،سینئر وائس چیئرمین مدثر مسعود چودھری اور وائس چیئرمین راجہ وسیم حسن نے کہا ہے کہپاکستان پر سود کے اخراجات اب بھی بلند سطح پر ہیں ،مالی بہا ئوپائیدار مالی اصلاحات نہیں بلکہ آئی ایم ایف کے سخت احکامات کی وجہ سے ہے ،سالانہ بہتری حقیقی ہوسکتی ہے لیکن یہ واضح نہیں کہ یہ مستقل ہوگی یا نہیں۔اپنے مشترکہ بیان میں پیاف کے عہدیداروں نے کہا کہ گزشتہ تین سال میں استحکام اور گروتھ کے درمیان فرق دیکھا گیاہے، استحکام کے لئے ضروری ہے کہ ڈھانچہ جاتی کمزوریوں کو دور کرنے کیلئے ساری توانائیاں لگائی جائیں۔انہوںنے کہا کہ مجموعی اعداد و شمار بیشک بہتر ہورہے ہوں لیکن اصل کام اور چیلنجز اب بھی وہی ہیں جن میں ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا، سرکاری اداروں میں اصلاحات، سبسڈیز کو منطقی بنانا، توانائی اور ریگولیٹری نظام کی کارکردگی میں بہتری اور نجی سرمایہ کاری و پیداواری صلاحیت کی حمایت کرنا ہے ۔ مالی سال کے اختتام پر یہ معاملات سامنے آئیں گے کہ آیا یہ معاشی استحکام ایک پائیدار ترقی میں تبدیل ہو پاتا ہے یا نہیں جو بہت اہمیت کا حامل ہے ۔ پیاف کے عہدیداروں نے کہا کہ معیشت کے حوالے سے ہر ماہ تمام اسٹیک ہولڈرز کی قومی سطح کی نشست ہونی چاہیے جس میں حکومتی اقدامات ،اس کے اثرات اور آئندہ کی حکمت عملی کے حوالے سے پالیسی مرتب کی جانی چاہیے