خیبر پختونخوا نے سب سے زیادہ لاشیں اٹھائیں،وفاقی وزیر پارلیمانی امور

اسلام آباد (نامہ نگار)وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائیوں کی مخالفت دراصل دہشت گردوں کے بیانیے کو تقویت دینے کے مترادف ہے، خیبر پختونخوا وہ صوبہ ہے جس نے سب سے زیادہ لاشیں اٹھائیں، سب سے زیادہ قربانیاں دیں اور سب سے زیادہ تباہی دیکھی تاہم افسوس کہ آج اسی صوبے میں دہشت گردوں کے خلاف ریاستی اقدامات پر سیاست کی جا رہی ہے۔ بدھ کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ”ایکس ”پر بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے آپریشنز کی مخالفت نے یہ سنگین سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا اقتدار کی سیاست قومی سلامتی سے زیادہ اہم ہو چکی ہے؟ جن عناصر نے مساجد، بازاروں، سکولوں اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا، ان کے خلاف کارروائی پر ابہام پیدا کرنا شہداء کے خون سے ناانصافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت جھٹلائی نہیں جا سکتی کہ پاک فوج، پولیس، ایف سی اور دیگر سکیورٹی اداروں کے ہزاروں جوانوں نے اس وطن کے امن کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، مائیں اپنے بیٹوں سے محروم ہوئیں، بچے یتیم ہوئے، خاندان اجڑ گئے یہ سب قربانیاں کسی سیاسی بیانیے کے لیے نہیں بلکہ پاکستان کے محفوظ مستقبل کیلئے دی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان کوئی ناراض فریق نہیں بلکہ ایک تسلیم شدہ دہشت گرد تنظیم ہے جس کے ہاتھ ہزاروں پاکستانیوں کے خون سے رنگے ہیں، ایسے میں دو ٹوک مؤقف کے بجائے نرم لہجہ اختیار کرنا اور ریاستی کارروائیوں کی مخالفت کرنا دراصل ان قربانیوں کی توہین ہے جو ہمارے سکیورٹی اہلکاروں نے دیں۔انہوں نے کہا کہ ریاست کا فرض ہے کہ وہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ کرے اور افواجِ پاکستان یہی آئینی ذمہ داری نبھا رہی ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کنفیوڑن نہیں بلکہ قومی یکجہتی درکار ہے، سیاست اپنی جگہ، مگر ریاست، سلامتی اور شہداء کی قربانیاں ہر چیز سے بالاتر ہونی چاہئیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button