تازہ کارروائیوں کے دوران 22مقامات پر چھاپے
سرینگر(این این آئی)مقبوضہ کشمیر میں قتل وغارت، بلاجواز گرفتاریاں، محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں اور ڈیجیٹل نگرانی روز کامعمول بن چکا ہےغیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں بھارتی پولیس کی کائونٹر انٹیلی جنس ونگ نے پیرا ملٹری فورسز کے ساتھ مل کر 22مقامات پر چھاپے مارے اورتلاشی کی کارروائیاں کیں۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سرینگر میں تقریبا 15مقامات پر چھاپے مارے گئے جبکہ دیگر اضلاع میں بھی اسی طرح کی کارروائیاں کی گئیں۔بھارتی حکام نے کالے قوانین کے غلط استعمال کا جواز پیش کرتے ہوئے دعوی ٰکیا کہ چھاپوں اور تلاشیوں کا تعلق بھارت مخالف اور آزادی پسند سرگرمیوں کے حوالے سے تحقیقات سے ہے۔مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی ظلم و جبر کا سلسلہ جاری ہے جس میں قتل وغارت، بلاجواز گرفتاریاں، محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں اور ڈیجیٹل نگرانی روز کامعمول بن چکا ہے۔ قابض حکام آزادی کی خاطر کشمیریوں کی آواز کو دبانے کے لیے اندھا دھند گرفتاریوں، کالے قوانین کا استعمال اور نجی املاک پر قبضوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ عام کشمیری کوروزانہ چھاپوں اور پوچھ گچھ کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بھارتی فوجیوں کو بے گناہ شہریوں کو قتل ، گرفتار اور ہراساں کرنے کے بے پناہ اختیارات حاصل ہیں۔ انسانی حقوق کے علمبرداروں اور سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں اس طرح کی کارروائیوں کا مقصد من گھڑت سائبر اور مالیاتی الزامات کے تحت کشمیریوں کو ہراساں کرنے، ڈرانے دھمکانے اور جھوٹے مقدمات میں پھنسانے کی بھارت کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہیں۔آر ایس ایس کی حمایت یافتہ مودی حکومت مقبوضہ جموں وکشمیرمیں اسرائیلی طرز کے مظالم ڈھارہی ہے اور علاقے کو اس کے باشندوں کے لیے جہنم بنا دیا گیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کو حل کرنے کے بجائے بھارت مسلسل چھاپوں، گرفتاریوں، املاک کی ضبطی اور ڈیجیٹل نگرانی سے مقبوضہ علاقے پر اپنا قبضہ مستحکم کرنے کی کوشش کررہا ہے۔