ایف آئی اے گوجرانوالہ میں شہریوں کے حقوق کی پامالی معمول
گوجرانوالہ (نامہ نگار) فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) سائبر کرائم ونگ گوجرانوالہ میں شہریوں کے ساتھ ہونے والی مبینہ ناانصافیوں اور موبائل فونز کی غیر قانونی ضبطگی کے خلاف عوامی حلقوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ شہریوں اور صحافتی تنظیموں نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی، وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے اس صورتحال پر فوری “ازخود نوٹس” لینے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔عوامی حلقوں اور متاثرہ شہریوں نے ایف آئی اے کے سب انسپکٹر زیشان یوسف کے خلاف فوری طور پر سخت تادیبی کارروائی (Departmental Action) عمل میں لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ الزامات کے مطابق مذکورہ افسر انکوائری کے نام پر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے شہریوں کو ہراساں کرنے اور قانونی ضابطوں (سیزر میمو) کی خلاف ورزی کرنے میں ملوث پائے گئے ہیں۔ مطالبہ کیا گیا ہے کہ مذکورہ افسر کو فوری طور پر معطل کر کے ان کے تمام کیسز کی اعلیٰ سطح پر انکوائری کی جائے تاکہ معلوم ہو سکے کہ کتنے شہریوں کے موبائل فونز ان کے قبضے میں غیر قانونی طور پر موجود ہیں۔اطلاعات کے مطابق اس پورے تنازعے کی بنیاد وہ ویڈیو ہے جس میں ایک اعلیٰ سرکاری افسر (مدعی) اپنے ماتحتوں کے ساتھ انتہائی متکبرانہ اور غیر پیشہ ورانہ لہجے میں گفتگو کر رہے ہیں۔ صحافی محمد شہباز کی جانب سے اس “سرکاری رعونت” کو بے نقاب کرنے پر انتقامی کارروائی کے طور پر ان کا موبائل فون سال بھر سے ضبط کر رکھا ہے۔ ہائی کورٹ میں مقدمہ (W.P. No. 48528-2024) زیرِ سماعت ہونے کے باوجود ایف آئی اے کی جانب سے رپورٹ جمع کروانے میں غیر معمولی تاخیر اور ٹال مٹول کا رویہ اختیار کرنا انصاف کی فراہمی میں بڑی رکاوٹ تصور کیا جا رہا ہے۔وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ایف آئی اے گوجرانوالہ کے اس ونگ میں ہونے والی “خفیہ انکوائریوں” اور موبائلز کی غیر قانونی ضبطگی کے خلاف فوری ایکشن لیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ جب تک سب انسپکٹر زیشان یوسف جیسے افسران کے خلاف تادیبی کارروائی نہیں ہوگی، تب تک ادارے کی ساکھ بحال نہیں ہو سکتی۔ اس حوالے سے جب ایف آئی اے کے متعلقہ حکام سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے موقف دینے سے گریز کیا۔